فدویٰ طوقان: دریائے اردن کے مغربی کنارے پر واقع فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام شہر انبلس میں 1917ء میں پیدا ہوئی۔ یہ شہر مقبوضہ بیت المقدس سے لگ بھگ 63 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی لگ بھگ ایک لاکھ 30 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ شہر کو ایبل اور کوہ گریزم کے درمیان آباد ہے۔ اسے فلطین اتھارٹی میں ایک صوبے کا درجہ حاصل ہے اور صوبائی دارلحکومت شمار کیا جاتا ہے۔ جہاں اتھارٹی کی طرف سے مقرر کردہ گورنر کے دفاتر واقع ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم انتہائی اہم مرکز النجا یونیورسٹی بھی یہیں واقع ہے۔
فدویٰ طوقان نے ساری زندگی اسرائیلی قبضے کی مزاحمت میں شاعری کرتے ہوئے گزاری۔ اس کی شاعری میں فلسطین کے المیوں، دکھوں، حسرتوں، ہجرتوں، ناجائز قبضوں اور ان کے خلاف مزاحمتی کاوشوں کے گہرے اثرات پائے جاتے ہیں۔ اس کے بھائی ابراہیم طوقان کو بھی فلسطین کا اہم شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ فدویٰ طوقان نے ابتدائی تعلیم اپنے شہر نابلس میں حاصل کی۔ تاہم 13 برس کی عمر میں شدید بیماری کے باعث ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔ اس کے بھائی ابراہیم نے ان کی تعلیم کو گھر پر ہی بحال کیے رکھا۔ وہ اس کے لیے کتابیں لاتے اور اسے انگریزی و عربی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ شاعری کے رموز و اسرار بھی سکھاتے۔ وہ آکسفورڈ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ فدویٰ کے بڑے بھائی احمد طوقان اردن کے وزیرِ اعظم رہے۔
فدویٰ طوقان کی شاعری کے آٹھ مجموعہ ہائے کلام شائع ہوئے۔ اس کی شاعری کا بڑا حصہ دنیا کی کئی اہم زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ عرب دنیا میں فدویٰ کی شاعری کو سراہنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس کی کتاب ’’ایام کے ساتھ تنہا‘‘ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے اور ریشہ دوانیوں کے خلاف احتجاجی نظموں، فلسطینی عوام کی تلخیوں، ان کی زندگی کی مشکلات اور سختیوں کا احاطہ کرتی ہے۔
12 دسمبر 2003ء کو فدویٰ طوقان کا ایسے عالم میں انتقال ہوا جب اس کا شہر نابلس اسرائیل کے محاصرے میں تھا۔ اس محاصرے کے دوران فدویٰ طوقان نے اپنی آخری نظم ’’خواہش، کششِ ثقل کے قانون سے متاثر ہوکر‘‘ لکھی۔ وہ اس وقت معذوری کی زندگی گزار رہی تھی۔ اس نظم میں شدید احساسِ تنہائی، بیگانگی، لاتعلقی اور اپنے وطن پر ایک جارح کے دیے گئے دکھ درد قلمبند کیے گئے ہیں۔ فلسطینی بچوں کے لیے اس کے قلم کی تڑپ اس کی نظموں میں جابجا دکھائی دیتی ہے۔
فدویٰ طوقان کی تقریباً گیارہ کتابوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:
(1) میرا بھائی -1946ء
(2) ایام کے ساتھ تنہا - 1955ء
(3) میں نے اسے پالیا - 1957ء
(4) ہمیں محبت دو - 1960ء
(5) بند دروازے کے سامنے - 1967ء
(6) دنیا کی چوٹی پر تنہا - 1973ء
(7) جولائی اور بعض دوسری چیزیں - 1989ء
(8) آخری نغمہ - 2000ء
(9) خواہش کششِ ثقل کے قانون سے متاثر ہوکر - 2003ء
آخر میں اس کی یاداشتوں پر مشتمل کتاب ’’فدویٰ طوقان، ایک سوانح عمری‘‘ شایع ہوئی۔ فدویٰ نے اپنی تمام زندگی فلسطین کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ اس کے سوچتی تھی اسی کے لیے جیتی تھی۔ اس کا شہر فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے بعد اسرائیل کے محاصرے میں رہا۔